انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (آئی ایس اے پی ایس) نے غیر لائسنس یافتہ معالجین اور طبی سیاحت کے حوالے سے مریضوں انتباہ جاری کردیا

– ادارہ عالمی قانونی سازی کی تائید اور اس میں تبدیلیوں کے لیے مریضوں کی حفاظت کے مطالبے کو فروغ دینے سے وابستہ

نیو یارک، 4 نومبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ — انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (آئی ایس اے پی ایس) نے ایسے تمام افراد کو انتباہ جاری کیا ہے جو کاسمیٹک سرجری کے لیے بورڈ کی اسناد کے بغیر کام کرنے والے غیر لائسنس یافتہ طبیبوں کے ہاتھوں کم خرچ طریقوں کے خواہشمند ہیں، خاص طور پر اپنے ملک سے باہر۔ برطانیہ کے دو شہریوں کی حالیہ اموات کہ جنہوں نے کاسمیٹک سرجری کے لیے بیرون ملک سفر کیا تھا اور غیر سند یافتہ طبیبوں سے علاج کروایا، آئی ایس اے پی ایس مریضوں کی بہتر حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں اور ان غیر ضروری اور افسوسناک اموات کو روکنے کے لیے قانونی سازی میں عالمی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

ISAPS%20Patient%20Safety%20Diamond انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (آئی ایس اے پی ایس) نے غیر لائسنس یافتہ معالجین اور طبی سیاحت کے حوالے سے مریضوں انتباہ جاری کردیا

ISAPS Patient Safety Diamond.

وڈیو – http://origin-qps.onstreammedia.com/origin/multivu_archive/PRNA/ENR/patient_safety.mp4

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20141103/156357LOGO

آئی ایس اے پی ایس کے صدر سوسومو تاکایاناگی، ایم ڈی، نے کہا کہ “بیرون ملک کاسمیٹک سرجری کروانا بہت خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ ہر دوسرے ملک میں اس کے معیارات مختلف ہو سکتے ہیں۔ مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بورڈ کے سند یافتہ پلاسٹک سرجنوں کو تلاش کریں، چاہے ان کی سرجری کسی بھی مقام پر ہو۔ مریض کی حفاظت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ آئی ایس اے پی ایس رکنیت بورڈ کے سند یافتہ پلاسٹک سرجنوں کے لیے مخصوص ہے جن کے لیے اپنی قومی پلاسٹک سرجری سوسائٹی کا رکن ہونا ضروری ہے۔”

پانچ سالوں میں آئی ایس اے پی ایس نے مریضوں کی حفاظت کی علامت بن چکا ہے، چار عوامل پر مشتمل ایک ڈائمنڈ جو محفوظ جمالیاتی پلاسٹک سرجری میں مہارت کے لیے ضروری ہے:

  • درست طریقے کا انتخاب
  • مریض کے لیے خطرات کے عوامل
  • سرجن کا انتخاب
  • محفوظ سرجیکل تنصیب

آئی ایس اے پی ایس پیشنٹ سیفٹی کمیٹی کے چیئر اور امریکن سوسائٹی فار ایستھیٹک پلاسٹک سرجری کے صدر مائیکل سی ایڈورڈز ایم ڈی نے کہا کہ ” مریض اس غلط فہمی کی وجہ سے اس لیے غیر لائسنس یافتہ معالجین کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ایم ڈی رکھنے والا ہر فرد کسی بھی آپریشن کو محفوظ انداز میں کرسکتا ہے۔ ملکوں کو سخت قوانین مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قابو پایا جا سکے کہ کون اور کیسا مقام پلاسٹک سرجری کے آپریشن کرسکتا ہے تاکہ آپریشن کی پیچیدگیوں اور اموات سے بچا جا سکے۔”

صدر یورپین ایسوسی ایشن آف سوسائٹیز آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجری (ای اے ایس اے پی ایس)، نائب صدر برٹش ایسوسی ایشن آف پلاسٹک ری کنسٹرکٹو اینڈ ایستھیٹک پلاسٹک سرجنز اور سابق صدر برٹش ایسوسی ایشن آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجنز نائجل مرسر، ایم ڈی نے کہا کہ “کوئی بھی مریض جو جمالیاتی سرجری کے لیے طویل فاصلاتی سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اسے شعور ہونا چاہیے کہ وہ خود کو اضافی خطرے سے دوچار کررہے ہیں اور خطرے سے ہٹ کر وہ اپنے گھر کے قریب ہی ایک مستند سرجن تلاش کرسکتے ہیں۔ اگر وہ دوسرے ملک تک سفر کرنے پر اصرار کریں تو یہ لازمی ہے کہ وہ ایک لائسنس یافتہ سرجن کا انتخاب کریں جو انہیں صرف آپریشن نہیں بلکہ بہتر خدمات، بعد از آپریشن دیکھ بھال اور مشاورت فراہم کرسکے۔ بورڈ کے سند یافتہ سرجنوں کی بین الاقوامی پر تلاش کا واحد طریقہ آئی ایس اے پی ایس کی ویب سائٹ ہے۔ مریضوں کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ معالجین سے پوچھیں کہ آپریشن کی پیچیدگی کی صورت میں وہ کون سی انشورنس رکھتے ہیں۔”