عالمی صحت کے لیے تاریخی کامیابی، یوروگوئے نے تمباکو کے خلاف اپنے مضبوط قوانین پر فلپ مورس کے دعوے کو شکست دے دی

مائیکل آر بلوم برگ اور میتھیو ایل مایرز کے بیانات

واشنگٹن، 9 جولائی 2016ء/پی آرنیوزوائر/– صحت عامہ کی تاریخی کامیابی میں کہ جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس ہوں گے، یوروگوئے نے تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے سخت قوانین برقرار رکھنے کے معاملے پر فلپ مورس انٹرنیشنل کے خلاف بین الاقوامی قانونی جنگ جیت لی ہے۔

Campaign for Tobacco-Free Kids logo.

لوگو –http://photos.prnewswire.com/prnh/20080918/CFTFKLOGO

چھ سے زیادہ سال بعد کہ جب فلپ مورس نے قانونی حملہ کیا تھا، عالمی بینک کے ایک ثالثی ٹریبونل نے آج یوروگوئے کے حق میں فیصلہ دیا اور فلپ مورس کے چیلنج کو سختی سے مسترد کیا جو یوروگوئے کی جانب سے تمباکو کے استعمال سے ہونے والی اموات اور پھیلنے والے امراض کو کم کرنے کے لیے دو قوانین منظور کرنے پر کیا گیا تھا۔ ایک قانون سگریٹ کے پیکٹوں پر سامنے اور پچھلے رخ پر 80 فیصد سے زیادہ حصے پر واضح انتباہ ہونے کا ہے، جبکہ دوسرا ایک ہی پیک کے ذریعے سگریٹ پیش کرنے تک محدود رکھنے کا ہے تاکہ اداروں کو (“لائٹ” اور “مائلڈ” جیسی) اصطلاحات اور رنگوں کو استعمال کرنے اور یہ تاثر قائم کرنے سے روکا جا سکے کہ چند سگریٹیں کم نقصان دہ ہوتی ہیں۔

بانی بلوم برگ فلینتھراپیز اور تین مرتبہ نیو یارک شہر کے میئر رہنے والے مائیک آر بلوم برگ کا بیان

یہ یوروگوئے کے عوام کی ایک بڑی کامیابی ہے – اور دنیا بھر کے ممالک پر ظاہر کرتی ہے کہ تمباکو ساز اداروں کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں اور جیت سکتے ہیں۔ حکومتوں کو ہمیشہ عوام کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے اور ہم ان کی مدد کرنے سے وابستہ ہیں جبکہ تمباکو ادارے راستہ روکے کھڑے ہیں۔ کسی ملک کو تمباکو اداروں کے قانونی مقدمات کے خطرے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور یہ مقدمہ زیادہ سے زیادہ اقوام کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ زندگیاں بچانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

صدر کمپین فار ٹوبیکو-فری کڈز، میتھیو ایل مایرز کا بیان

یہ فیصلہ عالمی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ صرف یوروگوئے نہیں بلکہ تمام ممالک کے آزادانہ حق کو یقینی بناتا ہے کہ وہ تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھا کر اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کریں۔ یہ فلپ مورس کے لیے بھی سخت تنبیہ ہے، جس نے حالیہ چند سالوں میں یوروگوئے اور دیگر ممالک کے تمباکو پر کنٹرول کے سخت قوانین کو چیلنج کرکے بین الاقوامی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں کی خلاف ورزی کی۔

فلپ مورس سمجھ رہا تھا کہ وہ یوروگوئے کو دھمکا کر اسے سخت تمباکو قوانین ترک کرنے پر مجبور کردے گا اور یوں کرکے دنیا بھر کے ممالک کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔ اس کے بجائے یوروگوئے نے بہادری سے مقابلہ کیا۔ فلپ مورس سے خوفزدہ ہونے سے یوروگوئے کا انکار اور اس کی زبردست کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ تمام ممالک، اپنے حجم اور دولت سے قطع نظر، تمباکو صنعت کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں اور اپنے زندگیاں بچانے والے قوانین کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے دنیا بھر میں ممالک کو عالمی ادارۂ صحت کے فریم ورک کنونشن برائے تمباکو کنٹرول کو فوری اور مکمل طور پر نافذ کرنے پر مہمیز ملنی چاہیے—یہ ایک عوامی صحت عامہ کا معاہدہ ہے جس کی 180 فریقین نے تصدیق کی ہے۔ ابھی مضبوط قدم نہیں اٹھایا گیا تو تمباکو اس صدی میں دنیا بھر میں ایک ارب افراد کو مار دے گا۔

کمپین فار ٹوبیکو-فری کڈز یوروگوئے اور صدر تبارے وازکوئیز کو تمباکو کے خلاف جنگ میں ان کی دلیرانہ قیادت پر سراہتا ہے، تمباکو پر قابو پانے کے سخت قوانین لاگو کرنے اور فلپ مورس کے مقابلے میں کھڑے ہونے پر بھی۔ دو قوانین جنہیں آج برقرار رکھا گیا تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے کی یوروگوئے کے جامع طریقے کا حصہ ہیں، جس میں 100 فیصد تمباکو سے پاک قانون، تمباکو کے اشتہارات پر پابندی اور اس پر ٹیکس میں زبردست اضافہ شامل ہیں۔ آج یوروگوئے میں تمباکو نوشی کرنے والے نوجوانوں میں 8 فیصد کمی آئی ہے، جو 2007ء کے مقابلے میں 23 فیصد کم تعداد ہے۔ پیشرفت جاری رکھنے کے لیے صدر وازکوئیز ایسی قانون سازی کے منصوبوں کا اعلان کرچکے ہیں جس کے تحت تمباکو مصنوعات کو سادہ پیکیجنگ کی ضرورت ہوگی۔

پس منظر

فلپ مورس نے یوروگوئے کے قوانین کو یوروگوئے اور سوئٹزرلینڈ، کہ جہاں بحیثیت ادارہ فلپ مورس کی تشکیل ہوئی، کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدےکی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت عالمی بینک کے ثالثی پینل بین الاقوامی مرکز برائے تصفیہ سرمایہ کاری تنازعات میں ہوئی۔ حکومت یورروگوئے نے آج فیصلہ جاری کیا۔ یوروگوئے کے حق میں فیصلہ ہونے کے ساتھ پینل نے فلپ مورس کو یورگوئے کے مقدمے پر اخراجات بھی ادا کرنے کا دیا۔

یوروگوئے کی کامیابی تمباکو اداروں کی قانونی شکستوں کے سلسلے میں تازہ ترین واقعہ ہے جو تمباکو کے خلاف سخت قوانین کے سامنے جدوجہد کر رہی ہیں۔ دسمبر 2015ء میں ایک بین الاقوامی ٹریبونل نے سگریٹوں کو سادہ پیکیجنگ میں فروخت کرنے کے آسٹریلیا کے قانون کے خلاف فلپ مورس انٹرنیشنل کو چیلنج کو مسترد کیا تھا، جس فیصلہ کیا گیا تھا کہ دعویٰ “حقوق کی خلاف ورزی ہے۔” مئی میں برطانیہ کی اعلیٰ عدالت نے ملک کے سادہ پیکنگ قانون کو برقرار رکھا اور یورپی یونین کی عدالت انصاف نے نئے تمباکو قوانین کو برقرار رکھا جس میں بڑے تصویری انتباہ اور سادہ پیکنگ اختیار کرنے کے یورپی یونین ممالک کے اختیار شامل تھے۔

مل جل کر ان فیصلوں نے تمباکو کے استعمال کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک زبردست ماحول تخلیق کردیا ہے اور ایک ایسا پیغام دیا ہے کہ تمباکو اداروں کو زندگی کی قیمت سے بڑھ کر منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بلوم برگ فلینتھراپیز اور کمپین فار ٹوبیکو-فری کڈز نے یوروگوئے کی حکومت کی قانونی ٹیم کو مالی و تکنیکی مدد فراہم کی۔ 2015ء میں بلوم برگ فلینتھراپیز اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے بھی اینٹی-ٹوبیکو ٹریڈ لٹیگیشن فنڈ قائم کیا تھا تاکہ کم اور درمیانی آمدنی رکھنے والے ممالک کو ایسے ہی قانونی مقدمات میں مدد دی جائے۔