لانژوسرمایہ کاری و تجارت میلہ رواں سال مزید عالمی سطح پر جاتا ہوا

لانژو، چین، 10 جولائی 2017ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 23 واں لانژوسرمایہ کاری و تجارتی میلہ سوموار کی دوپہر اختتام کو پہنچا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مرکزی موضوع ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی میلہ بی اینڈ آر اقتصادی و تجارتی تبادلوں کی سرگرمیوں کی بدولت زیادہ عالمی سطح پر گیا۔

رواں سال کے لانژو میلے نے سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے ساتھ ساتھ 21 ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم کے ساتھ واقع ممالک سے بہتر تبادلے کیے ۔ گانسو صوبائی حکومت کے نائب سیکریٹری اور نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتظامی کمیٹی لانژو میلہ چانگ چینگ فینگ کے مطابق میلے نے نیپال اور ملائیشیا کو تاریخ میں پہلی بار مہمانان خصوصی کے طور پر مدعو کیا۔

لانژو میلے نے 36 ممالک اور متعدد بین الاقوامی انجمنوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی جبکہ 27 وزارت خارجہ حکام و سفیروں نے تقریب میں شرکت کی۔ کل 32,000 افراد نے ملک و بیرون ملک تقریب کے لیے رجسٹریشن کروائی۔

غیر ملکی مہمانوں کی تعداد نے رواں سال ایک ریکارڈ قائم کیا، سال بہ سال میں 30 فیصد اضافہ، جو اسے زیادہ عالمی ایونٹ بناتا ہے، چانگ نے مزید کہا۔

گانسو صوبے نے میلے کے آغاز سے قبل 206 بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کو منتخب کیا تھا جس میں سرمایہ کاری کا کل حجم 211.6 ارب یوآن تھا۔ ان میں سے کئی منصوبوں پر میلے کے دوران دستخط ہوئے، جن میں بالترتیب 12 فیصد، 30 فیصد اور 58 فیصد شعبہ زراعت، صنعتی شعبے اور تیسرے درجے کے شعبے کے ہیں۔ اہم سرمایہ کاری منصوبوں کی ایک تعداد پر سوموار کی دوپہر اختتامی تقریب میں دستخط ہوئے، جو ساخت گری، چینی روایتی ادویات، غیر آہنی دھات اور دھات کاری، جدید زراعت، صحت عامہ، ماحول دوست سیاحت و دیگر کے متعلق ہیں۔

ذریعہ: انتظامی کمیٹی لانژولانژوسرمایہ کاری و تجارت میلہ

Related Post