کائنات میں ذی شعور زندگی کی غیر معمولی تلاش کے لیے 100 ملین ڈالرز کا بریک تھرو لسن منصوبہ اپنا ڈیٹا عوامی سطح پر پیش کرتا ہوا

آسمانوں کو یکجا کرنے والی ٹیلی اسکوپس کے جال کے لیے ‘پہلی روشنی’؛ آئندہ ماہ کے لیے بڑے پیمانے پر تلاش کا اعلان؛ بریک تھرو انیشی ایٹوز ویب سائٹ کے ذریعے اوپن سورس ڈیٹا ڈاؤنلوڈ کے لیے دستیاب

سان فرانسسکو، 12 اپریل 2016ء/پی آرنیوزوائر/– کائنات میں ذی شعور زندگی کے آثار تلاش کرنے کے لیے 100 ملین ڈالرز کا منصوبہ ‘بریک تھرو لسن’ ابتدائی مشاہداتی حقائق کے مجموعے دنیا کے سامنے جاری کر رہا ہے، یہ اعلان بریک تھرو انیشی ایٹوز نے آج کیا۔

جنوری 2016ء نے بریک تھرو لسن کے لیے ‘پہلی روشنی’ دیکھی، جس نے جولائی 2015ء میں یوری ملنر، اسٹیفن ہاکنگ، لارڈ مارٹن ریس، این ڈرویان اور فرینک ڈریک کی جانب سے لندن کی رائل سوسائٹی میں اعلان کردہ 10 سالہ کوشش کے مشاہدوں کا آغاز کیا تھا۔ مغربی ورجینیا میں گرین بینک ریڈیو ٹیلی اسکوپ اور ماؤنٹ ہیملٹن، کیلیفورنیا میں لک آبزرویٹری کے آٹومیٹڈ پلانٹ فائنڈر کو استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں گھنٹوں کے مشاہدے کیے گئے۔

آج بریک تھرو لسن بریک تھرو انیشی ایٹوز کی ویب سائٹ (www.breakthroughinitiatives.org) پر عوامی رسائی کے لیے ڈیٹا کا پہلا مجموعہ جاری کر رہا ہے۔ گرین بینک ٹیلی اسکوپ کا ڈیٹا یو سی برکلے کے سیٹی@ہوم سافٹویئر کے صارفین کے لیے بھی دستیاب ہے۔

بریک تھرو لسن کی جانب سے کیے گئے اب تک کے مشاہدوں میں زمین سے 16 نوری سال کے فاصلے پر واقع بیشتر ستارے (جن میں 51 پیگاسی جیسے ستارے شامل ہیں جو اضافی-شمسی سیاروں کی میزبانی کے لیے معروف ہیں) اور 16 سے 160 نوری سال کے درمیان ستاروں کا ایک نمونہ شامل ہیں۔ اس میں قریبی سورج نما اور بڑے ستارے اور ساتھ ساتھ متعدد دوہرے ستارے شامل ہیں۔ تلاش نے 40 قریبی اسپائرل کہکشاؤں کو بھی ہدف بنایا، جس میں مجمع النجوم کاسیوپیا کی سمت میں مافی گروپ کے اراکین شامل ہیں۔ 16 نوری سال کے اندر واقع ستارے صرف جنوبی نصف کرہ سے قابل رسائی ہیں، الفا سینٹاری، جس کا مشاہدہ سال کے اختتام تک پارکیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کیا جائے گا۔

تین ٹیلی اسکوپس کے لیے رواں سال کا مشاہداتی منصوبہ شائع ہو چکا ہے اور www.breakthroughinitiatives.org پر مل سکتا ہے۔ منصوبہ بندی کے مطابق مشاہدوں میں شامل ہیں:

1۔ گرین بینک ریڈیو ٹیلی اسکوپ

پانچ کلیدی نمونوں میں مصنوعی سگنلز کے لیے دنیا کی سب سے گہری تلاش (شمالی نصف کرہ)

  • 1 سے 15 گیگاہرٹز پر 5 پارسیکس کے درمیان تمام 43 ستارے۔ تاریخ کا پہلا مکمل سیٹی سروے 5 پارسیکس کے اندر۔ ریڈیو نشریات کی “ارتھ-لیکیج” سطح کے لیے حساس۔
  • تمام اسپیکٹرل-اقسام (OBAFGKM) کے 1000 ستارے۔ 50 پارسیکس کے اندر۔ 1 سے 15 گیگاہرٹز۔
  • ایک ملین قریبی ستارے۔ 2016ء میں پہلے 5,000 ستارے؛ ایک منٹ ایکسپوژر (1 سے 15 گیگاہرٹز)
  • 100 قریبی کہکشاؤں کے مراکز: اسپائرلز، ایلپٹکلز، ڈوارفس، ارریگولرز (1 سے 15 گیگاہرٹز)
  • پراسرار ستارے: 20 وائٹ ڈوارفس، 20 نیوٹرون ستارے، 20 بلیک ہولز

2۔ پارکیس ریڈیو ٹیلی اسکوپ

چھ کلیدی نمونوں میں مصنوعی سگنلز کے لیے دنیا کی سب سے گہری تلاش (جنوبی نصف کرہ)

  • 5 پارسیکس کے اندر 1 سے 15 گیگاہرٹزپر تمام 43 ستارے (جنوبی جھکاؤ پر)۔ 5 پارسیکس میں پہلا مکمل سیٹی سروے۔ ریڈیو نشریات کی “ارتھ-لیکیج” سطح کے لیے حساس۔
  • تمام اسپیکٹرل-اقسام (او بی اے ایف جی کے ایم) کے تمام 1000 ستارے (جنوب)۔ 50 پارسیکس میں (1 سے 4 گیگاہرٹز)
  • ایک ملین قریبی ستارے (جنوب) 2016ء سے 2017ء میں پہلے 5,000 ستارے؛ ایک منٹ ایکسپوژر (1 سے 4 گیگاہرٹز)
  • کہکشانی سطح اور مرکز (1 سے 4 گیگاہرٹز)
  • 100 قریبی کہکشاؤں (جنوبی جھکاؤ والی) کے مراکز: اسپائرلز، ڈوارفس، ارریگولرز (1 سے 4 گیگاہرٹز)
  • پراسرار: 20 وائٹ ڈوارفس، 20 نیوٹرون ستارے، 20 بلیک ہولز

3۔ آٹومیٹڈ پلانٹ فائنڈر: آپٹیکل اسپیکٹروسکوپک سیٹی

اہداف بی ایل گرین بینک ریڈیو تلاش سے قریبی مطابقت رکھے گی، جس میں اے پی ایف کے کہیں چھوٹے نظر آنے والے علاقے کی وجہ سے تھوڑی بہت تبدیلیاں شامل ہیں۔ اہداف یہ ہیں:

  • اے پی ایف کے لیے قابل رسائی 5 پارسیکس میں تمام 43 ستارے (شمالی جھکاؤ -20 درجے)
  • تمام اسپیکٹرل قسم کے 1000 قریبی ستارے، او بی اے ایف جی کے ایم مرکزی سلسلہ اور قوی ہیکل
  • 100 قریبی کہکشائیں (مراکز، شمالی جھکاؤ= -20 درجے)

ملنر نے کہا کہ “بریک تھرو لسن باضابطہ طور پر کام کررہا ہے اور ذی شعور زندگی کے آثار تلاش کرنے کے لیے آسمانوں کو چھان رہا ہے۔ یہ ایک جامع کوشش ہے، جو ان شاندار سائنسی و ٹیکنالوجی جدتوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے جن کا مشاہدہ ہم ایسی کوششوں کے ابتدائی دنوں سے کر رہے ہیں۔ اب اپنے ساتھیوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ ہمارے جمع کردہ ڈیٹا کا جائزہ لیں اور ہمارے ساتھ کائنات کو چھانیں۔”

بریک تھرو انیشی ایٹوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹ وورڈن نے کہا کہ “بریک تھرو لسن اب دوڑ رہا ہے۔ پہلی بار ہم اپنے کہکشانی پڑوس کی جامع سیٹی تلاش حاصل کریں گے۔ یکساں طور پر اہم یہ کہ دنیا بھر کے عوام اور ماہرین اس ڈیٹا کو حاصل کر سکتے ہیں اور یہ سمجھنے میں مدد سکتے ہیں کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں۔”

برکلے سیٹی ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر اینڈریو سیمیون نے کہا کہ “بریک تھرو لسن زمین کے علاوہ جدید زندگی کی تلاش کے لیے آسمانوں کو باضابطہ طور پر چھاننے کی ہماری صلاحیت میں ایک بڑا قدم ہے۔ آنے والے مہینوں میں ہماری کام کی صلاحیتیں مسلسل بڑھیں گی اور ہم اضافی ڈیٹا پیش کریں گے اس لیے دریافت کے مواقع بھی زبردست انداز میں بڑھیں گے۔”

ٹیلی اسکوپس کا ڈیٹا بریک تھرو انیشی ایٹوز کی ویب سائٹ (www.breakthroughinitiatives.org) کے ذریعے ریکارڈنگ کی تاریخ، شے کے نام اور دیگر مقداروں سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ سائنس دان اور کمپیوٹر سائنس کی مہارت رکھنے والے ٹیلی اسکوپس سے حاصل کردہ اس خام ڈیٹا کا جائزہ لے سکتے ہیں اور اس عظیم اور وافر ڈیٹا مجموعوں پر کام کرنے کے لیے اپنی ایپلی کیشنز بنا سکتے ہیں۔ ایک کمپیوٹر یا اسمارٹ فون رکھنے والا کوئی بھی فرد سیٹی@ہوم رضاکار کمپیوٹنگ سافٹویئر (http://seti.berkeley.edu/participate) کے ذریعے بریک تھرو لسن ڈیٹا کو نچوڑنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے، بریک تھرو لسن ٹیلی اسکوپس، آلات اور ڈیٹا کے لیے نصابی مواد تیار کررہی ہے (http://seti.berkeley.edu/listen

بریک تھرو لسن دنیا کی طاقتور ترین ریڈیواور آپٹیکل ٹیلی اسکوپس کے نیٹ ورک کے ذریعے 10 سال کے عرصے تک ڈیٹا حاصل کرے گا تاکہ وسیع اور مکمل آسمانی سگنل مانیٹرنگ حاصل کی جا سکے۔ یہ ایک دن میں اتنا ڈیٹا حاصل کرے گی جتنا پہلے ایک سال میں جمع کیا جاتا تھا۔ تلاش کی صلاحیت 50 فیصد زیادہ حساس، 10 گنا زیادہ آسمان کا احاطہ، 5گنا زیادہ ریڈیو اسپیکٹرم اور 100 گنا زیادہ تیز رفتار ہوگی۔

گرین بینک ٹیلی اسکوپ

اکتوبر میں 1.5 گیگاہرٹز بینڈوڈتھ کے ڈیجیٹل آلات گرین بینک ٹیلی اسکوپ میں نصب کیے گئے۔ اس اپ گریڈ نے گرین بینک سسٹم کی پچھلی بینڈوڈتھ کو اندازاً دوگنا کردیا ہے۔ بہتر نظام نے پوری گرین بینک آبزرویٹری میں دستیاب اسٹوریج گنجائش کو بھی دوگنا کردیا ہے۔

لک آبزرویٹری

لک آبزرویٹری کے آٹومیٹڈ پلانٹ فائنڈر زمین سے باہر ممکنہ ٹیکنالوجی کے آثار سے نکلنے والے لیزر اخراج کے لیے قریبی ستاروں کا روبوٹک مشاہدہ شروع کرچکا ہے۔ ٹیلی اسکوپ 130 ستاروں کا مشاہدہ کر چکی ہے اور تمام خام ڈیٹا آن لائن آرکائیو میں دستیاب ہے۔

پارکیس ریڈیو ٹیلی اسکوپ

پارکیس، آسٹریلیا میں موجود پارکیس ریڈیو ٹیلی اسکوپ اپالو 11 کے چاند پر اترنے کے دوران براہ راست ٹیلی وژن نشریات کو ڈاؤن لنک کرنے میں کردار کی وجہ سے مشہور ہے، اور اکتوبر 2016ء میں گرین بینک ٹیلی اسکوپ اور لک آٹومیٹڈ پلانٹ فائنڈر کے ساتھ شامل ہوگی۔ چونکہ جی بی ٹی کی توجہ ممکنہ مقامات کی گہرے اور ہر بدف مشاہدے پر ہوتی ہے، پارکیس آسمان کے بڑے حصوں کی وسیع تلاش قبول کرے گا۔ فروری میں پارکیس میں انجینئرنگ توثیق کے لیے سگنل پروسیسنگ ہارڈویئر لگائے گئے تھے۔ تجرباتی مقصد کے لیے محدود ڈیٹا ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔

سیٹی@ہوم

سیٹی@ہوم 1999ء سے مسلسل کام کررہا ہے، اور اس دوران لاکھوں شرکا کی توجہ حاصل کرچکا ہے۔ رضاکار http://seti.berkeley.edu/participate پر جا کر شامل ہو سکتے ہیں۔اس مفت سافٹویئر کے صارفین اپنے کمپیوٹر کی اضافی پروسیسنگ طاقت کو عطیہ کرکے باشعور زندگی کی کائنات میں تلاش کے لیے جمع کیے گئے ڈیٹا کے وسیع بہاؤ میں مدد دیتے ہیں۔

گرین بینک سے آنے والے ڈیٹا کا اضافہ سیٹی@ہوم کے رضاکاروں کو اس وقت کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ آسمان دے گا۔ اکتوبر میں پارکیس آبزرویٹری کے مشاہدوں کا آغاز رضاکاروں کو پورے آسمان تک رسائی دے گا۔ جیسے جیسے بریک تھرو لسن اپنی تلاش کی وسعت کو ڈرامائی انداز میں پھیلاتا ہے، عام افراد، جن کے پاس تکنیکی تربیت بھی نہیں ہے، اس جواب کی تلاش کے دلچسپ کام میں شریک ہو سکتے ہیں: کیا ہم اس کائنات میں تنہا ہیں؟

منصوبے کی قیادت:

  • مارٹن ریس، آسٹرونومر رائل، فیلو ٹرینیٹی کالج؛ ایمریٹس پروفیسر کوسمولوجی و آسٹروفزکس، یونیورسٹی آف کیمبرج۔
  • پیٹ وورڈن، چیئرمین، بریک تھرو پرائز فاؤنڈیشن۔
  • فرینک ڈریک، چیئرمین ایمیریٹس، سیٹی انسٹیٹیوٹ، پروفیسر ایمیریٹس آسٹرونومی و آسٹروفزکس، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا کروز؛ بانی ڈائریکٹر، نیشنل آسٹرونومی و لونوسفیئر سینٹر؛ سابق گولڈون اسمتھ پروفیسر برائے آسٹرونومی، کورنیل یونیورسٹی۔
  • ڈین ورتھیمر، شریک بانی و چیف سائنس دان سیٹی@ہوم منصوبہ؛ ڈائریکٹر سیرینڈپ، کیسپر کے مرکزی محقق۔
  • اینڈریو سیمیون، ڈائریکٹر، برکلی سیٹی ریسرچ سینٹر۔