کارپوریٹ کاربن رپورٹنگ کو نظرثانی کی ضرورت: کے پی ایم جی عالمی تحقیق

سالانہ مالیاتی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں سے اہم معلومات غائب

عالمی رہنما ہدایات غیر مستقل طریقوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں

پیرس، 3 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– کے پی ایم جی سروے آف کارپوریٹ رسپانسبلٹی رپورٹنگ کے 2015ءایڈیشن کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے اداروں کی کارپوریٹ رپورٹنگ ربط میں کمی رکھتی ہے، جو اسٹیک ہولڈرز کے لیے کسی ادارے کی کارکردگی کو باآسانی اور درست انداز میں دوسرے سے تقابل کرنا تقریباً ناممکن بناتی ہے۔

کے پی ایم جی کے رکن اداروں میں ماہرین نے دنیا کے بڑے 250 اداروں کی سالانہ مالی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں شائع شدہ کاربن معلومات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پایا کہ ہر ان رپورٹوں میں 5 میں سے 4 اداروں نے کاربن پر گفتگو کی ہے، اور شائع شدہ معلومات کی اقسام اور معیار  ڈرامائی طور پر مختلف ہے۔

مثال کے طور پر صرف نصف جی250 (53 فیصد) اپنے ادارے کی رپورٹوں میں کاربن  کمی کو ہدف بناتے  ہیں، اور ان میں سے دو تہائی اس وضاحت کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ یہ ہدف کیوں منتخب کیے گئے تھے۔

اخراج کی رپورٹ کردہ اقسام بھی کافی مختلف ہیں۔ رپورٹ کرنے والے اداروں کی اکثریت نے اپنے آپریشنز (84 فیصد) اور خریدی گئی توانائی (79 فیصد) سے اخراج کو رپورٹ کیا، صرف نصف (50 فیصد) نے اپنی رسدی زنجیر سے اخراج کی رپورٹ دی۔ دس میں سے ایک سے بھی کم (7 فیصد) اداروں اپنی مصنوعات و خدمات کے استعمال اور ٹھکانے لگانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اخراج کی معلومات شامل کی۔

تقریباً نصف (51 فیصد) اداروں نے اپنی کمپنی رپورٹوں میں کاربن پر گفتگو کی اور متبادل ذرائع پر تفصیلی معلومات کے حوالے دیے ہیں جیسا کہ سی ڈی پی ڈیٹا برائے سرمایہ کاران۔ باقی نصف نے ایسا نہیں کیا۔

وم بارٹیلس، نیدرلینڈز میں کے پی ایم جی کے ایک شراکت دار اور ماحول دوست رپورٹنگ اور یقین دہانی کے شعبے میں کے پی ایم جی کے عالمی سربراہ کے پی ایم جی کے سروے کے اہم لکھاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:

تمام اسٹیک ہولڈرز کو اداروں کی سالانہ مالیاتی یا کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں کمپنی کی کاربن کارکردگی پر اچھے معیار کی قابل تقابل معلومات تک رسائی ہونی چاہیے۔ آج حقیقت یہ نہیں ہے۔

“کاربن پر بہتری اور عالمی رپورٹنگ رہنما ہدایات کی واضح ضرورت ہے جو اس مسئلے کے حل میں مدد دے سکتی ہے۔ اس معاملے سے نمٹنا صرف اداروں کے آسرے پر نہیں چھوڑا جا سکتا؛ صنعتی انجمنوں،ضابطے کے اداروں، معیار بند، سرمایہ کار اور دیگر سب کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔”

کے پی ایم جی کی تحقیق مالیاتی استحکام بورڈ کی جانب سے جی20 کو پیش کردہ حالیہ تجویز کے بعد آئی ہے جس میں ایک ٹاسک فورس کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اداروں کو قرض دہندگان، بیمہ کاران، سرمایہ کاران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مدد کے لیے مسلسل موسمیات سے متعلق انکشافات سے آگاہ رکھے تاکہ ضروری خطرات سے آگہی مل سکے۔1کلائمٹ اسٹینڈرڈز ڈسکلوژر بورڈ (سی ڈی ایس بی) ایک رضارکارانہ ڈھانچہ متعارف کروا چکا ہے جس کا مقصد اداروں کو سرمایہ کار متعلقہ موسمیاتی معلومات کو مرکزی مالیاتی رپورٹنگ میں شامل کرنے میں مدد دینا ہے۔2

کے پی ایم جی تحقیق میں ڈیٹا، اہداف اور رابطہ کاری پر رہنما ہدایات شامل ہیں جن کے بارے میں کے پی ایم جی رکن ادارے سمجھتے ہیں کہ کمپنیوں کو سالانہ مالیاتی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں کاربن معلومات پیش کرتے وقت زیر غور رکھنی چاہئیں۔

کے پی ایم جی محققین نے ایک اسکورنگ کا طریقہ بھی وضع کیا ہے جو ان رہنما ہدایات پر مبنی ہے اور جو انہوں نے 250 سب سے بڑے اداروں میں سے ہر ایک کی رپورٹنگ کے معیار کاجائزہ لینے کے لیے استعمال کیا ہے۔ کلیدی نتائج میں شامل ہیں:

  • زیادہ کاربن کے شعبہ جات جیسا کہ کان کنی، تعمیرات اور کیمیکلز میں 5 بڑے اداروں میں سے 1 نے اپنی سالانہ مالیاتی یا کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں کاربن پر کوئی رپورٹ نہیں دیتا۔
  • یورپی ادارے دنیا کے کسی بھی دوسرے علاقے کے مقابلوں میں بہتر معیار کی رپورٹنگ رکھتے ہیں۔
  • ٹرانسپورٹ اور تفریحی شعبے کے ادارے شعبہ جاتی اعتبار سے سب سے زیادہ معیار کی رپورٹنگ پیش کی، اور تیل و گیس کے اداروں نے سب سے کم۔
  • صرف نصف اداروں نے اپنی مالیاتی یا کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں کاربن پر رپورٹ دیا کہ کس طرح کاربن میں کمی نے ان کے کاروبار کو فائدہ پہنچایا۔

کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹنگ میں عالمی رحجانات

کے پی ایم جی سروے آف کارپوریٹ رسپانسبلٹی رپورٹنگ میں سی آر رپورٹنگ پر عالمی رحجانات کا ایک منظرنامہ شامل ہے جو45 ممالک کے 4,500 اداروں کی رپورٹنگ کے جائزے کی بنیاد پر ہے۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ سی آر رپورٹنگ کی شرح ایشیا بحر الکاہل میں یورپ یا امریکین سے زیادہ ہے (سی آر پی ایشیا بحر الکاہل کے 79 فیصد اداروں نے رپورٹ دی)۔

سی آر رپورٹنگ کی بلند ترین شرحبھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بلند شرح بسا اوقات حکومت یا بازار حصص کی جانب سے ضابطوں سے تحریک پاتی ہے۔

تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ سالانہ مالیاتی رپورٹوں میں سی آر معلومات شامل کرنے کرنا اب ایک معیاری کاروباری مشق ہے – تحقیق میں شامل 4,500 میں سے نصف سے زیادہ اداروں (56 فیصد) نے ایسا کیا۔

رپورٹ کے بارے میں

کے پی ایم جی سروے آف کارپوریٹ رسپانسبلٹی اب اپنے نویں ایڈیشن میں ہے اور پہلی بار 1993ء میں شائع کی گئی تھی۔ تحقیق کے پی ایم جی کے رکن اداروں میں ماہرین کرتے ہیں اور یہ عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہوتی ہے جو ادارے اپنی کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں، سالانہ مالیاتی رپورٹوں اورویب سائٹوں پر شائع کرتے ہیں۔

2015ء ایڈيشن میں دنیا کے سب سے بڑے 250 اداروں کا نمونہ 2014ء کی فورچیون 500 فہرست کی بنیاد پر ہے۔ 3سی آر رپورٹنگ میں عالمی رحجانات 45 ممالک میں آمدنی کے اعتبار سے سرفہرست 100 ممالک کے لیے رپورٹنگ کی تحقیق کی بنیاد پر ہے۔

مزید معلومات اور رپورٹ کی نقل ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ملاحظہ کیجیے www.kpmg.com/crreporting

کے پی ایم جی انٹرنیشنل کے بارے میں

کے پی ایم جی ماہر اداروں کا ایک عالمی نیٹ ورک ہے جو آڈٹ، ٹیکس اور مشاورتی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ہم 155 ممالک میں کام کرتے ہیں اور دنیا بھر میں رکن اداروں میں 162,000 سے زیادہ افراد رکھتے ہیں۔ کے پی ایم جی نیٹ ورک کے آزاد رکن ادارے ایک سوئس ادارے کے پی ایم جی انٹرنیشنل کوآپریٹو (“کے پی ایم جی انٹرنیشنل”) سے منسلک ہیں۔ ہر کے پی ایم جی ادارہ قانونی طور پر جدا اور علیحدہ ادارہ ہے اور خود کو ایسے ہی بیان کرتا ہے۔

1 ذریعہ: http://www.financialstabilityboard.org/wp-content/uploads/Disclosure-task-force-on-climate-related-risks.pdf17 نومبر 2015ء کو حاصل کیا گیا

2 http://www.cdsb.net/what-we-do/reporting-frameworks/climate-change19 نومبر 2015ء کو حاصل کیا گیا

3http://fortune.com/global500/2014/

مزید معلومات کے لیے: مارٹ میکنزی، موسمیاتی تبدیلی و ماحول دوستی مرکز فضیلت، کے پی ایم جی انٹرنیشنل، +31 6 4676 1884  (موبائل)، mmckenzie@kpmg.com ؛  ایلی آسٹن، موسمیاتی تبدیلی و ماحول دوستی مرکز فضیلت، کے پی ایم جی انٹرنیشنل، +44 7789 942159 (موبائل)، eleanor.austin@kpmg.co.uk